پاکستانی سائنسداں کی حیرت انگیز ایجاد سے اب دماغ او ر مشین آپس میں باتیں کرسکیں گے

67

تفصیلات کے مطابق کینیڈا کےشہر کیلگری میں مقیم پاکستانی نژاد سائنسداں ڈاکٹر نوید آئی سید نے نینو بایو ٹیکنالوجی میں ایک انقلابی پیش رفت کرتے ہوئےدماغ کے خلیوں کو سلیکون چپ سے جوڑ دیا ہے۔

ڈاکٹر نوید نے پہلی بار 2012 میں دماغ اور موجودہ ٹیکنالوجی کے درمیان ربط پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کیا تھا اور اس کے بعد سے وہ مسلسل اپنی اس ایجاد میں بہتری لانے میں لگے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ کروڑوںخلیوں پر مشتمل ہے اور ہر خلیے کا اپنا ایک کام ہے۔ ان کے مطابق یہ دماغی خلیے آپس میں بات بھی کرتے ہیں اور ان کی ایجاد کردہ ٹیکنالوجی کے ذریعے اب دماغ جو پیغامات جاری کرتا ہے انھیں کمپیوٹر پر دیکھنا اور پھر پڑھنا ممکن ہو جائے گا۔

ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے مصنوعی اعضا بھی دماغ کے احکامات قبول کرنے کے قابل ہوجائے گے۔ پہلی بار اس کا تجربہ گھونگھوں پر کیا گیا تھاور اب چوہوں اور دیگر جانوروں پر اس کےتجربات جاری ہیں اور ڈاکٹر نویدسید پر امید ہیں کہ ان کی زندگی میں ہی یہ ایجاد بنی نوع انسان کے لیے حیرت انگیز فوائد پیش کرے گی۔