1

برطانوی میں دہشت گرد حملوں کی روک تھام کےلیے “آپریشن ٹیمپرر” شروع

رطانوی وزیراعظم تھریسا مے کا کہنا ہے کہ مانچسٹرحملے کے بعد برطانیہ میں کسی بھی وقت اگلا حملہ ہوسکتا ہے جبکہ یہی خدشہ مدنظر رکھتے ہوئے وہاں خطرے کی سطح بلند کی گئی ہے جس کے تحت تمام اہم عمارتوں کی نگرانی کے لیے فوج تعینات کی جارہی ہے۔

برطانیہ میں سیکیوریٹی ہائی الرٹ کا فیصلہ گزشتہ روز ایک خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جس میں داعش کی جانب سے مزید حملوں کی دھمکی بطورِخاص زیرِبحث آئی تھی۔ 2014 سے برطانیہ میں خطرے کی سطح نسبتاً کم تھی جسے گزشتہ روزبڑھا کر ’’شدید ترین‘‘ کردیا گیا ہے۔ جدید برطانوی تاریخ میں یہ تیسرا موقعہ ہے کہ جب وہاں خطرے کی سطح اس قدر بلند کی گئی ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے یہ اعلان بھی کیا کہ ان کی حکومت نے دہشت گردوں سے نمٹنے اور ان کے متوقع حملوں کو ناکام بنانے کےلیے ’’آپریشن ٹیمپرر‘‘ کا آغاز کردیا ہے جس کے تحت اہم اورپُرہجوم عوامی مقامات کی حفاظت کے لیے مسلح پولیس اہلکاروں کے علاوہ برطانوی فوجیوں کو بھی تعینات کیا جائے گا، علاوہ ازیں کنسرٹ یا اس قسم کی دیگرعوامی تقریبات میں بھی پولیس کی جانب سے اضافی سیکیوریٹی فراہم کی جائے گی۔

واضح رہے کہ داعش نے مانچسٹر خودکش بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ یورپی ممالک خود کو مستقبل میں ایسے مزید حملوں کےلیے تیاررکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں