2

مولاناعبدالغفورحیدری کے قافلے پر خودکش حملہ، 25 افراد جاں بحق

مستونگ میں خودکش حملہ عین اس وقت ہوا جب ڈپٹی چیرمین سینیٹ اور جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک مدرسے میں دستار بندی کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس جارہے تھے۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی جب کہ اس کی زد میں آنے والی کئی گاڑیاں تباہ اور ان میں سوار متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے۔

لاشوں اور زخمیوں کو سول اسپتال مستونگ منتقل کیا گیا ہے، اسپتال انتظامیہ نے 25  افراد کے جاں بحق اور 30 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ دھماکے میں مولانا عبدالغفور حیدری کا ڈرائیور اور جے یو آئی (ف) کوئٹہ کے نائب امیر بھی جاں بحق ہوئے ہیں جب کہ زخمیوں میں ایکسپریس نیوز کے نمائندے عبدالمنان بھی شامل ہیں۔

ڈی پی او مستونگ غضنفر علی شاہ نے ایکسپریس نیوز سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی شواہد اور عینی شاہدین کے مطابق یہ خودکش حملہ تھا اور اس کا نشانہ عبدالغفور حیدری تھے تاہم اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

زخمیوں میں مولانا عبدالغفور حیدری بھی شامل ہیں تاہم انہیں معمولی نوعیت کے زخم آئے ہیں۔ ایکسپریس نیوز سے خصوصی بات کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ دھماکا انتہائی شدید تھا، وہ خود تو خیریت سے ہیں لیکن دہشت گردی کے اس واقعے میں ان کے دیگر ساتھیوں کے جاں بحق ہونے پر انہیں شدید افسوس ہے۔

واقعے کے بعد کوئٹہ سے بم ڈسپوزل اسکواڈ روانہ کردیا گیا ہے جب کہ شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ دوسری جانب سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری ، وزیراعلیٰ پنجاب اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کے نتیجے میں جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں