1

اسرائیل کے مقبوضہ یروشلم اورغزہ کی پٹی پر اقدامات کے خلاف قرارداد منظور

نیویارک: اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے اسرائیل کے مقبوضہ یروشلم اورغزہ کی پٹی پر اقدامات کے خلاف قرارداد منظور کرلی ‘ فلسطینی رہنماؤں نے اسے عالمی قانون کی فتح قراردیا ہے۔

یونیسکو کے ترجمان کے مطابق گزشتہ روز یونیسکو کے اجلاس میں 22 ملکوں کی حمایت سے ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں یروشلم کو مقبوضہ لکھا گیا اور اسرائیل کے شہر پردعوے کو لغو قراردیا گیا۔ امریکہ‘ جرمنی اور اٹلی سمیت ساتھ ممالک نے اس قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیے۔

فلسطین کے وزیرِ خارجہ ریاض المالکی نے قرارد منظور ہونے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دنیا نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ’’اسرائیل کی ناانصافی‘ غاصبانہ تسلط اور غیرقانونی پالیسیوں کے برعکس اس کےساتھ کھڑا ہونا ہے جو حق پر ہیں‘‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم اپنی ثقافت اور تاریخی ورثے کا‘ اپنے ماضی اورمستقبل کا دفاع کریں گے‘‘۔ ’’ہم اسرائیلی تسلط میں تاریخ کو مسخ کرنے اور تاریخی آثار کو مٹائی جانے والی مہم کا سامنا کریں گے‘ ہمارے ہتھیار آرمی قوانین اور ہمارے عوام ہیں جو کہ غاصبانہ تسلط سے پاک مستقبل تشکیل دینے کی قوت رکھتے ہیں‘‘۔

 فلسطین کی حمایت میں یہ قرارداد الجیریا‘ مصر‘ لبنان‘ مراکش‘ عمان‘ قطر اور سوڈان کی جانب سے جمع کرائی گئی تھی جس میں اسرائیل کو ’غاصب قوت قرار دے کر یروشلم جسے فلسطینی مستقبل میں اپنا دارالحکومت بناناچاہتے ہیں‘ میں آثارِ قدیمہ سے متعلق جاری تمام تر پراجیکٹ روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قرارداد میں زوردیا گیا ہے کہ’’ یروشلم کے قدیم شہر اوراس کی دیوار تینوں بڑے مذہاب اسلام‘ عیسائیت اور یہودیت میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں تاہم اسرائیل اس مقدس شہر کے تشخص کو مسخ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے قرارداد کو سیاسی کہتے ہوئے یونیسکو کو سیاست کا شکار ادارہ قرار دے دیا جس پر اقوام متحدہ میں تنقید بھی کی گئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں