37

یہ بہت گہری سازش ہے – ایکسپریس اردو

یہ بہت گہری سازش ہے - ایکسپریس اردو

یہ بہت گہری سازش ہے - ایکسپریس اردو

[email protected]

یہ بہت گہری سازش ہے - ایکسپریس اردو

ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور بھارتی دانشوروں کا ماننا ہے کہ بھارت کے سیکولر نظریے ہی کی وجہ سے بھارت ٹوٹ پھوٹ سے بچا ہوا ہے، اگر بھارت کا سیکولر نظریہ ختم ہوگیا تو پھر بھارت کا متحد رہنا مشکل ہوجائے گا۔ غالباً یہی وہ احساس تھا کہ تقسیم ہند کے فوری بعد اس وقت کی قیادت نے بھارت کے بیانیے میں سیکولرزم کو شامل کیا۔ اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بھارت ابھی تک سیکولرزم کے نظریے ہی کی وجہ سے متحد ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ بھارت کی مذہبی انتہاپسند جماعتیں سیکولرزم کو پس پشت ڈال کر مذہبی انتہاپسندی کی راہ پر چل پڑی ہیں، خاص طور پر پاکستان کے حوالے سے بھارت کی مذہبی انتہاپسند جماعتیں سخت نفرت اور تعصب کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔

یہ بہت گہری سازش ہے - ایکسپریس اردو

پاکستانی فنکاروں، پاکستانی کرکٹرز، پاکستانی گلوکاروں کے خلاف انتہائی جہل کے مظاہرے کیے جاتے رہے ہیں۔انتہا پسندی جب نظریاتی بیماری بن جاتی ہے تو وہ مختلف سمتوں میں بہنے لگتی ہے، آج کل بھارت میں ایک فلم پدماوتی کے خلاف بھارت کی تمام انتہا پسند جماعتوں نے ایک طوفان اٹھایا ہوا ہے، سینما گھروں پر حملے، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کا بازار گرم ہے، اس کے فلم ساز اور اداکارہ دپیکا پڈوکون سخت خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ اس حوالے سے ایک حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ بھارت کی فلم انڈسٹری کی جانب سے فلم ساز اور اداکارہ کی پرزور حمایت کی جارہی ہے لیکن مذہبی انتہا پسند جماعتیں توڑ پھوڑ کے راستے پر چل رہی ہیں۔

یہ بہت گہری سازش ہے - ایکسپریس اردو

تازہ اطلاعات کے مطابق ہریانہ اور راجستھان میں ہندو انتہاپسند گروہوں نے مقامی سینما ہاؤس پر حملہ کرکے سینما ہاؤس میں توڑ پھوڑ کی۔ اس فلم کے حوالے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اس فلم میں راجپوتوں کے کلچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس فلم کا فلم ساز بھی ہندو ہے، اس فلم کی ہیروئن بھی ہندو ہے، لیکن مذہبی انتہا پسندوں کو توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کے لیے کسی نہ کسی بہانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ بہت گہری سازش ہے - ایکسپریس اردو

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ظلم کے جو پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ساری دنیا اس کی مذمت کر رہی ہے، لاکھوں روہنگیا مسلمان بدھوں کی خونخواری کا شکار ہیں، ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کردیا گیا ہے، لاکھوں روہنگیا مسلمان اپنی جانیں بچانے کے لیے بنگلہ دیش چلے گئے ہیں، یہ مسئلہ حالیہ برسوں کا بدترین مسئلہ بن گیا ہے۔ بدھوں کے بارے میں ہمیشہ یہ تاثر عام رہا ہے کہ یہ ایک انتہائی پرامن کمیونٹی ہے، لیکن روہنگیا مسلمانوں پر جو ظلم بدھوں نے کیا ہے اس سے ان کی تاریخی امن پسندی داغدار ہوکر رہ گئی ہے۔

یہ بہت گہری سازش ہے - ایکسپریس اردو

مذہبی انتہاپسندی نے ساری دنیا میں انسانیت کو رسوا کرکے رکھ دیا ہے۔ بھارت میں بی جے پی کی حکومت ہے اور بدقسمتی سے مذہبی انتہا پسندی بی جے پی کی پہچان بنی ہوئی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا تعلق اگرچہ نچلے طبقے سے ہے اور نچلا طبقہ خواہ اس کا تعلق کسی مذہب و ملت سے ہو سخت سماجی اور اقتصادی پسماندگی میں مبتلا ہے۔

یہ بہت گہری سازش ہے - ایکسپریس اردو

اس حقیقت کے پیش نظر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ طبقہ بلاامتیاز مذہب ملت متحد ہوکر طبقاتی استحصال کے خلاف صف آرا ہوتا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قتل و غارت تعصب و نفرت کے ہر حوالے سے نچلے طبقات ہی سرگرم نظر آتے ہیں، اس کی ایک منطقی وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ اگر غریب عوام بلاامتیاز رنگ، نسل، ذات پات، دین دھرم اور ملک و ملت متحد ہوجائیں تو استحصالی طبقات کی موت ثابت ہوسکتے ہیں اور اسی خوف کی وجہ سے استحصالی طبقات نے غریب طبقات کو نہ صرف تقسیم کرکے رکھ دیا ہے بلکہ انھیں ایک دوسرے سے نفرت کرنے ایک دوسرے کا خون بہانے پر لگا دیا ہے۔

یہ بہت گہری سازش ہے - ایکسپریس اردو

اکیسویں صدی کے آغاز سے جو مسلم انتہا پسندی متعارف ہوئی ہے، وہ اس تیزی سے پھیلی ہے کہ ساری دنیا کے عوام سخت خوفزدہ ہوکر رہ گئے ہیں۔ ہم نے نشاندہی کردی ہے کہ انتہا پسندی جب عروج پر آجاتی ہے تو بے سمت ہوجاتی ہے۔ مسلم انتہا پسندی کے حوالے سے یہ خیال عام تھا کہ اس کی وجہ بننے والے عناصر میں فلسطین اور کشمیر سرفہرست ہیں لیکن جب وہ پیک پر پہنچی تو اس کی کوئی سمت نہ رہی بلکہ اب اس کی حشر سامانیوں سے سب سے زیادہ مسلم ملک ہی متاثر ہو رہے ہیں۔

افغانستان، پاکستان، عراق، شام، لیبیا، یمن اور افریقہ کے مسلم ملکوں میں یہ بلا خودکش دھماکوں کے ایسے ایسے ہولناک مناظر دکھا رہی ہے کہ اسے فلسطین اور کشمیر کے تناظر میں دیکھنے والے گنگ ہوکر رہ گئے ہیں۔ یہ کوئی سیکرٹ نہیں بلکہ ایک کھلی ہوئی شرمناک حقیقت ہے۔ کیا ترقی یافتہ دنیا کے دانشور، مفکر، فلسفی اس حوالے سے سوچنے کی زحمت کر رہے ہیں؟

سرمایہ دارانہ نظام کے مظالم اس قدر شدید ہوگئے ہیں کہ دنیا کے 7 ارب انسان ان سے نجات چاہتے ہیں۔ اس امکانی خطرے سے بچنے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کے منصوبہ سازوں نے غریب طبقات کو رنگ، نسل، زبان، قومیت، ملک و ملت سمیت بے شمار حوالوں سے پہلے ہی تقسیم کر رکھا ہے، لیکن اس اہتمام کے باوجود اس نظام کے رکھوالوں کو یہ خوف لاحق ہے کہ کہیں دنیا بھر کے غریب عوام سرمایہ دارانہ استحصال کے خلاف نہ اٹھ کھڑے ہوں۔غالباً یہی وہ خوف ہے جس نے دہشتگردی کو دنیا کا ایسا سب سے بڑا مسئلہ بناکر رکھ دیا ہے کہ دنیا بھر کے عوام کی ساری توجہ دہشتگردی کی طرف مبذول ہوکر رہ گئی ہے۔

مسئلہ بھارت کی مذہبی انتہا پسندی کا ہو یا میانمار کے روہنگیا مسلمانوں پر بدھ مت والوں کے مظالم کا، مسئلہ فلسطین کے عربوں کا ہو یا کشمیر کے مسلمانوں کا یہ سارے مسائل عالمی میڈیا کی گرما گرم خبریں بن گئی ہیں ان خبروں میں سرمایہ دارانہ نظام کے مظالم گم ہوکر رہ گئے ہیں۔ یہ کام آزاد میڈیا دنیا بھر کے اہل علم، اہل قلم کا ہے کہ وہ اس گہری سازش سے عوام کو آگاہ کریں اور انھیں یہ بتائیں کہ ان کی تقسیم کوئی اتفاقی بات نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں کی ایک گہری سازش ہے جس کا مقصد دنیا کے 80 فیصد سے زیادہ عوام کی توجہ کو طبقاتی مظالم سے ہٹانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں