36

وہ باتیں جنہیں سیکھنے میں مجھے پچاس سال لگ گئے

اس کی کیا وجہ ہے کہ انسان اپنا پورا شعور اور صلاحیتیں استعمال نہیں کرتا ہے؟ میں پچاس سال گزارنے کے بعد یہ سمجھا ہوں کہ انسان کی راہ کی رکاوٹ لوگوں سے ملنا جلنا اور بات چیت ہے۔ میرے آفس کی میٹنگز ہیں جن میں ہم اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور کسی بھی مسئلے پر تبادئے خیال کرتے ہیں ۔ اگر کوئی بھی انسان اپنا سارا وقت اور توانائی صرف کام میں لگا دے تو وہ انسان کے شعور کا وہ لیول حاصل کر سکتا ہے جو آئن سٹائن نے حاصل کیا تھا۔ آئن سٹائن ایک عام

(خبر جا ری ہے)

آدمی تھالیکن اس کا آئی کیو باقی سب سے بہت بڑھ کر تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنا دماغ ہر وقت استعمال کیا کرتا تھا۔ جب آپ اپنے جسم کے کسی بھی پٹھے یا پٹھے یا مسل کو زیادہ استعمال کرتے ہو تو وہ زیادہ مضبوط بنتا جاتا ہے۔ اسی طرح جب آپ ہر وقت دماغ کو لگاتے رہو تو وہ بھی بہت بہتر ہوتا جاتا ہے۔کسی بھی چیز کو سر پر سوار کرنے اور اس کو ایک پسندیدہ مشغلہ بنانے میں بہت تھوڑا سا فرق ہے۔ جب انسان کو کوئی مشغلہ بہت زیادہ پسند ہوتا ہے تو وہ اس کو ہر وقت کرتا رہتا ہے اور کسی بھی کام کی زیادتی اس کے لیے مضر صحت بن جاتی ہے۔ اپنی پسند کے کام کرو مگر یاد رکھو کہ کوئی بھی ایک کام ہر وقت کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔ جو لوگ بھی اپنے مزہبی عقیدے آپ کے ساتھ شےئر کرتے رہتے ہیں وہ آپ کے عقیدے سننے میں بالکل کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ اپنی بات سنانے پر زور دیتے ہیں۔ آپ کی بات سننے سے انہیں کوئی لگاؤ نہیں ہوتا۔ آپ کی جاب آپ کی زندگی نہیں ہوتی، یہ زندگی گزارنے کا ایک سہارا ہوتی ہے۔ جب انسان اپنا سارا وقت اپنی جاب کو دینے لگ جائے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس کے ساتھ بہت سے مسائل جنم لینے والے ہیں۔ چاہے سب اچھا ہو یا برا، کوئی نہ کوئی شخص ہر چیز میں کیڑے نکالنے میں ضرور کامیاب ہو جائے گا۔ جب سب کچھ تباہ ہو جاتا ہے اور سب ہار مان کر بیٹھ جاتے ہیں،ایسے میں ہمیشہ ایک آدمی کھڑا ہو کر سب کو اپنے پیچھے پھر سے کھڑا کر لیتا ہے اور سب کو ان کی مشکل سے نکال لیتا ہے، وہ آدمی پاگل مشہور ہوتا ہے اور سب جانتے ہیں کہ وہ جنونی ہے۔لیکن کٹھن وقتوں میں بڑے سے بڑا عقل مند خطرے کی جگہ سے ہٹ جاتا ہے، ایسے میں صرف ایک جنونی آدمی سب کچھ سنبھال سکتا ہے۔ یہ پاگل بھی عموماً آئن سٹائن کی طرح کے ہوتے ہیں۔ کسی کو فرق نہیں پڑتا کہ تم کیسے لگ رہے ہو اور کیا کر رہے ہو، بس باقیوں کی طرح کچھ نہ کچھ کرتے رہو۔ایک ایسا انسان جو تمہارے ساتھ بہت اچھا رویہ رکھے اور ویٹر کے ساتھ بد تمیزی کرتا ہو، کبھی ا صل میں ایک اچھا انسان نہیں ہو سکتا۔ کسی بھی انسان کا اصل ظرف دیکھنا ہو تو اس کا رویہ نوکروں، گارڈز اور ویٹروں کے ساتھ دیکھو۔سب اچھا ہو یا برا، آخر میں تمہارےدوست ہمیشہ تمہارے ساتھ ہی کھڑے ہوں گے۔ اصلی دوستوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون امیر ہے اور کون خوبصورت، وہ تمہارے یار ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

اس کی کیا وجہ ہے کہ انسان اپنا پورا شعور اور صلاحیتیں استعمال نہیں کرتا ہے؟ میں پچاس سال گزارنے کے بعد یہ سمجھا ہوں کہ انسان کی راہ کی رکاوٹ لوگوں سے ملنا جلنا اور بات چیت ہے۔ میرے آفس کی میٹنگز ہیں جن میں ہم اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور کسی بھی مسئلے پر تبادئے خیال کرتے ہیں ۔ اگر کوئی بھی انسان اپنا سارا وقت اور توانائی صرف کام میں لگا دے تو وہ انسان کے شعور کا وہ لیول حاصل کر سکتا ہے جو آئن سٹائن نے حاصل کیا تھا۔ آئن سٹائن ایک عام نارمل آدمی تھا

لیکن اس کا آئی کیو باقی سب سے بہت بڑھ کر تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنا دماغ ہر وقت استعمال کیا کرتا تھا۔ جب آپ اپنے جسم کے کسی بھی پٹھے یا پٹھے یا مسل کو زیادہ استعمال کرتے ہو تو وہ زیادہ مضبوط بنتا جاتا ہے۔ اسی طرح جب آپ ہر وقت دماغ کو لگاتے رہو تو وہ بھی بہت بہتر ہوتا جاتا ہے۔کسی بھی چیز کو سر پر سوار کرنے اور اس کو ایک پسندیدہ مشغلہ بنانے میں بہت تھوڑا سا فرق ہے۔ جب انسان کو کوئی مشغلہ بہت زیادہ پسند ہوتا ہے تو وہ اس کو ہر وقت کرتا رہتا ہے اور کسی بھی کام کی زیادتی اس کے لیے مضر صحت بن جاتی ہے۔ اپنی پسند کے کام کرو مگر یاد رکھو کہ کوئی بھی ایک کام ہر وقت کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔ جو لوگ بھی اپنے مزہبی عقیدے آپ کے ساتھ شےئر کرتے رہتے ہیں وہ آپ کے عقیدے سننے میں بالکل کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ اپنی بات سنانے پر زور دیتے ہیں۔ آپ کی بات سننے سے انہیں کوئی لگاؤ نہیں ہوتا۔ آپ کی جاب آپ کی زندگی نہیں ہوتی، یہ زندگی گزارنے کا ایک سہارا ہوتی ہے۔ جب انسان اپنا سارا وقت اپنی جاب کو دینے لگ جائے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس کے ساتھ بہت سے مسائل جنم لینے والے ہیں۔ چاہے سب اچھا ہو یا برا، کوئی نہ کوئی شخص ہر چیز میں کیڑے نکالنے میں ضرور کامیاب ہو جائے گا۔ جب سب کچھ تباہ ہو جاتا ہے اور سب ہار مان کر بیٹھ جاتے ہیں،

ایسے میں ہمیشہ ایک آدمی کھڑا ہو کر سب کو اپنے پیچھے پھر سے کھڑا کر لیتا ہے اور سب کو ان کی مشکل سے نکال لیتا ہے، وہ آدمی پاگل مشہور ہوتا ہے اور سب جانتے ہیں کہ وہ جنونی ہے۔لیکن کٹھن وقتوں میں بڑے سے بڑا عقل مند خطرے کی جگہ سے ہٹ جاتا ہے، ایسے میں صرف ایک جنونی آدمی سب کچھ سنبھال سکتا ہے۔ یہ پاگل بھی عموماً آئن سٹائن کی طرح کے ہوتے ہیں۔ کسی کو فرق نہیں پڑتا کہ تم کیسے لگ رہے ہو اور کیا کر رہے ہو، بس باقیوں کی طرح کچھ نہ کچھ کرتے رہو۔

ایک ایسا انسان جو تمہارے ساتھ بہت اچھا رویہ رکھے اور ویٹر کے ساتھ بد تمیزی کرتا ہو، کبھی ا صل میں ایک اچھا انسان نہیں ہو سکتا۔ کسی بھی انسان کا اصل ظرف دیکھنا ہو تو اس کا رویہ نوکروں، گارڈز اور ویٹروں کے ساتھ دیکھو۔سب اچھا ہو یا برا، آخر میں تمہارےدوست ہمیشہ تمہارے ساتھ ہی کھڑے ہوں گے۔ اصلی دوستوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون امیر ہے اور کون خوبصورت، وہ تمہارے یار ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں