11

   برکت کو سمجھنے کیلئے ایک مثال

ایک شخص نے حضرت علی بن ابی طالب سے سوال کیا کہ کتے بیک وقت سات سات بچے جنتے ہیں جبکہ بھیڑ بکریاں بیک وقت ایک یا دو یا پھر کبھی تین بچے جنتے ہیں اس کے باوجود بھیڑ بکریوں کی تعداد ہر جگہ کتوں سے زیادہ ہوتی ہیں؟؟حالانکہ ہم آئے روز بھیڑ،بکریوں کو ذبح بھی کرتے ہیں ،قربانی کرتے ہیں پھر بھی وہ ہمیشہ کتوں سے زیادہ ہوتی ہیں!!حضرت علی نے فرمایا: یہی چیز برکت ہے۔اس شخص نے کہا:برکت بھیڑ بکریوں میں ہی کیوں ہے کتوں میں کیوں نہیں؟فرمایا:بھیڑ بکریاں رات کے وقت میں سوتی ہیں اور رحمت(فجر) کے

(خبر جا ری ہے)

ہیں تو برکت کو پالیتی ہیں ،مگر کتے ساری رات بھونک کر فجر کے قریب سو جاتے ہیں اور رحمت اور برکت سے محروم ہوجاتے ہیں ۔میں تمہیں نصیحت کرتاہوں کہ رات کو جلد سو اور صبح جلدی اٹھو یہی رزق اور اولاد میں برکت کا ذریعہ ہے۔

ایک شخص نے حضرت علی بن ابی طالب سے سوال کیا کہ کتے بیک وقت سات سات بچے جنتے ہیں جبکہ بھیڑ بکریاں بیک وقت ایک یا دو یا پھر کبھی تین بچے جنتے ہیں اس کے باوجود بھیڑ بکریوں کی تعداد ہر جگہ کتوں سے زیادہ ہوتی ہیں؟؟حالانکہ ہم آئے روز بھیڑ،بکریوں کو ذبح بھی کرتے ہیں ،قربانی کرتے ہیں پھر بھی وہ ہمیشہ کتوں سے زیادہ ہوتی ہیں!!حضرت علی نے فرمایا:

یہی چیز برکت ہے۔اس شخص نے کہا:برکت بھیڑ بکریوں میں ہی کیوں ہے کتوں میں کیوں نہیں؟فرمایا:بھیڑ بکریاں رات کے وقت میں سوتی ہیں اور رحمت(فجر) کے وقت جاگتی ہیں تو برکت کو پالیتی ہیں ،مگر کتے ساری رات بھونک کر فجر کے قریب سو جاتے ہیں اور رحمت اور برکت سے محروم ہوجاتے ہیں ۔میں تمہیں نصیحت کرتاہوں کہ رات کو جلد سو اور صبح جلدی اٹھو یہی رزق اور اولاد میں برکت کا ذریعہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں