12

برائے اصلاح و تنقید (غزل 42)


مست و بے خود ہوں عشق میں جیسے
حال ایسا نہ تھا کبھی پہلے

سرد رت میں عذاب اک اترے
یہ شفق زرد شال جب اوڑھے

بارشوں نے اجاڑ دی بستی
غم کے بادل ہیں اب تلک گہرے

تھرتھراتے لبوں سے اک سسکی
لے کے سانسوں کی حدتیں ابھرے

پھر دسمبر کی سرد راتیں ہیں
دل ترستا ہے لمس کو تیرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں