26

درختوں کی کٹائی اور کاروبار میں بڑے نام ملوث

سپریم کورٹ میں درختوں کی کٹائی سے متعلق دائر مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 200 روپے کے جرمانے سے درختوں کی کٹائی نہیں روکی جاسکتی۔ محکمہ جنگلات خود درختوں کی کٹائی میں ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک وفاقی حکومت اور محکمہ جنگلات درختوں کی کٹائی کے حوالے سے بنائے جانے والے قانون کی خلاف ورزی کرتے رہیں گے اس کام کو نہیں روکا جا سکتا۔ وزیر اعظم نے خود گلگت بلتستان میں درختوں کو کاٹنے کی پالیسی منظور کی۔

جسٹس فائز نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے درختوں کی کٹائی کے حوالے سے منظوری میں کہا گیا تھا کہ پرانے درختوں کی جگہ نئے درخت لگائے جائیں گے۔ کیا نئے درخت پرانے درختوں کا نعم البدل ثابت ہوسکتے ہیں۔

دوران سماعت جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ اسلام آباد کے کرکٹ گراؤنڈ سے منسلک دیہاتوں اور جنگلات میں اثر و رسوخ والے لوگ قبضے کر رہے ہیں۔ 8 ٹرکوں کے ساتھ پکڑے جانے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ درختوں کی کٹائی کے کام میں بڑے بڑے نام ملوث ہیں۔

یاد رہے سہالہ کہوٹہ روڈ پر درختوں کی کٹائی کی خبر اے آر وائی نیوز پر نشر ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے اس کیس کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب حکومت اور آئی سی ڈی سے جواب طلب کیا تھا۔

مقدمے کی مزید سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں