25

نئے این ایف سی ایوارڈ کے اجراء پر وفاق اور صوبوں کے درمیان اختلافات

نئے این ایف سی ایوارڈ کے اجراء پر وفاق اور صوبوں کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوسکے، چھوٹے صوبے نئے این ایف سی ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم کے موجودہ فارمولے کو تبدیل کرنے اور جلد ازجلد نئے ایوارڈ کا اجرا چاہتے ہیں۔

ساتویں این ایف سی ایوارڈکی مدت میں توسیع کو دوسال مکمل ہونے والے ہیں مگرا س کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان نئے این ایف سی ایوارڈکے اجرا پر اختلافات ختم نہیں ہو سکے جس کے باعث آٹھویں این ایف سی ایوارڈ کے اجرا میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ اس تمام صورتحال کا فائدہ پنجاب کو ہو رہا ہے جبکہ سندھ نے اشیا پر ٹیکس وصولیاں اورکروڈ آئل پر ایکسائز ڈیوٹی صوبوںکو منتقل کرنے اور جلد ازجلد نئے ایوارڈکے اجراکا مطالبہ کیا ہے۔

علاوہ ازیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا نئے این ایف سی ایوارڈ میں صوبائی آبادی کا موجودہ 82 فیصدکا حصہ کم کرنے کا مطالبہ ہے۔ موجودہ ساتویں این ایف سی ایوارڈکے تحت قابل تقسیم محاصل میں صوبائی آبادی کا 82فیصد، غربت اور انفرااسٹرکچرکی کمی کا 10 اعشاریہ تین فیصد، ریونیو کولیکشن5 فیصد اور رقبے کے لحاظ سے آبادی کی بنیادپر2 اعشاریہ7فیصد وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ذرائع کے مطابق نئے این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کے لیے الگ سے تین فیصد فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جو سالانہ90 ارب روپے اور آئندہ دس سالوں میں 900 ارب روپے بنتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں