15

گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دنیا کے برفانی مقامات شدید خطرات کا شکار

جاپان کے شہر توکا ماچی سے 15 سو فٹ کی بلندی پر واقع یہ گاؤں تاکا کرا کہلاتا ہے۔ توکا ماچی میں تو سالانہ 460 انچ برف پڑتی ہے، البتہ تاکا کرا میں کتنی برف پڑتی ہے اس کا تعین آج تک نہ کیا جاسکا، البتہ سطح سمندر سے مزید بلند ہونے کے باعث یہاں توکا ماچی سے کہیں زیادہ برف پڑتی ہے۔

جاپان کے نوبل انعام یافتہ مصنف نے ایک بار اس جگہ کا دورہ کیا تو انہوں نے لکھا، ’تاروں بھری رات میں زمین سفید لبادہ اوڑھے لیٹی نظر آتی ہے‘۔

تاہم اب ماہرین موسمیات و ماحولیات کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کو متاثر کرنے والا کلائمٹ چینج اس مقام پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے اور اب یہاں برفباری کی اوسط میں کمی آرہی ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ تاکا کرا کی آبادی صرف 14 افراد پر مشتمل ہے جبکہ توکا ماچی میں 54 ہزار کے قریب لوگ مقیم ہیں، یہ تمام لوگ اس برفانی موسم کے عادی ہیں اور اس کے مطابق اپنا طرز زندگی تشکیل دے چکے ہیں۔

تاہم اب یہاں کا درجہ زیادہ ہونے کے باعث انہیں طبی مسائل پیش آسکتے ہیں جبکہ اس سخت موسم کے مطابق بنایا گیا ان کا ذریعہ روزگار بھی خطرات کا شکار ہے۔

یاد رہے کہ دنیا بھر کے درجہ حرارت میں اضافے یعنی گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دنیا کے برفانی مقامات شدید خطرات کا شکار ہیں اور یہاں رہنے والی جنگلی و آبی حیات کو بھی معدومی کا خدشہ ہے۔

درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے دنیا بھر میں موجود گلیشیئرز بھی پگھل رہے ہیں جس کے باعث سمندروں کی سطح میں اضافے کا امکان ہے اور یوں تمام دنیا کے ساحلی شہروں کے ڈوبنے کا خطرہ دن بدن بڑھ رہا ہے۔

عالمی خلائی ادارے ناسا کے مطابق قطب شمالی کی برف بھی پگھل رہی ہے اور گزشتہ سال صرف مارچ سے اگست کے دوران قطب شمالی کے سمندر میں ریکارڈ مقدار میں برف پگھلی۔

قطب شمالی کے بعد دنیا کے دوسرے بڑے برفانی مقام گرین لینڈ کی برف پگھلنے میں بھی خطرناک اضافہ ہوگیا ہے۔

جریدے سائنس ایڈوانس میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گرین لینڈ میں سنہ 2003 سے 2013 تک 2 ہزار 700 ارب میٹرک ٹن برف پگھل چکی ہے

برف کے اس قدر پگھلاؤ کے بعد اب ماہرین نے اس خطے کی برف کو نہایت ہی ناپائیدار قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے پگھلنے کی رفتار میں مزید اضافہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں