18

دریائے سندھ میں پائی جانے والی نایاب نابینا ڈولفن

تفصیلات کے مطابق سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے محکمہ جنگلی حیات، ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور زولوجیکل سروے کے ماہرین نے سندھ میں نایاب نسل کی نابینا انڈس ڈولفن کی تعداد کے حوالے سے سروے کیا۔

سکھر میں 5 سال بعد کیے جانے والے اس سروے کا آغاز 22 مارچ کو چشمہ بیراج س  دریائے سندھ میں پائی جانے والی نایاب نابینا ڈولفن ے کیا گیا جو سکھر بیراج میں اختتام پذیر ہوگیا۔

سروے ٹیم نے چشمہ بیراج، تونسا بیراج، گڈو بیراج اور سکھر بیراج میں ڈولفن کی تعداد کو مانیٹر کیا۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف میں مذکورہ سروے کی سربراہی کرنے والی مینیجر جنگلی حیات حمیرا عائشہ نے اس بارے میں بتایا کہ یہ سروے مختلف تکنیکوں کے ذریعے انجام دیا گیا۔ ڈولفنز کی تعداد کا حتمی ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے کم از کم 1 ماہ کا عرصہ درکار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس عرصے میں مختلف بین الاقوامی طور پر رائج تکنیکوں کے ساتھ ساتھ پہلے کیے جانے والے مختلف سرویز کا آپس میں موازنہ کیا جائے گا جس کے بعد حتمی نتائج مرتب ہوسکیں گے۔

حمیرا کے مطابق یہ سروے ہر 5 سال بعد ایک مخصوص وقت میں کیا جاتا ہے جس میں دریا کے بہاؤ، موسم اور دیگر عوامل کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ ڈولفنز شماری کے لیے کیا جانے والا یہ چوتھا سروے ہے۔ اس نوعیت کا سب سے پہلا سروے ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جانب سے سنہ 2001 میں کیا گیا تھا جس کے مطابق دریائے سندھ میں ڈولفنز کی تعداد 11 سو تھی۔

اس سے قبل 2011 میں کیے جانے والے سروے نے دریائے سندھ میں ڈولفنز کی تعداد 1 ہزار 452 بتائی۔

حمیرا عائشہ کا کہنا تھا کہ یہ سروے ڈولفن کے تحفظ کے اقدامات کو مزید بہتر کرنے کے سلسلے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

نایاب نسل کی نابینا ڈولفن اکثر دریائے سندھ سے راستہ بھول کر نہروں میں آ نکلتی ہیں اور کبھی کبھار پھنس جاتی ہیں۔ اس صورت میں ان کو فوری طور پر نکال کر دریا میں واپس بھیجنا بہت ضروری ہوتا ہے ورنہ ان کی موت یقینی ہو جاتی ہے۔

راستہ بھولنے اور دیگر خطرات کے باعث اس ڈولفن کو اپنی بقا کا خطرہ لاحق ہے اور ان کی تعداد میں تیزی سے کمی کے باعث عالمی ادارہ تحفظ فطرت آئی یو سی این نے اسے معدومی کے خطرے کا شکار جانداروں کی فہرست میں رکھا ہے۔

سرکاری عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ماہی گیر دریائے سندھ میں زیادہ سے زیادہ مچھلیوں کو پکڑنے کے لیے زہریلے کیمیائی مواد کا استعمال کر رہے ہیں جو اس ڈولفن کی ہلاکت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

دوسری جانب ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں کیمیائی اور دیگر آلودگی کے ساتھ ساتھ ڈیموں کی تعمیر، ڈولفن کا مچھلیاں پکڑنے کے لیے بچھائے گئے جالوں میں حادثاتی طور پر پھنس جانا، میٹھے پانی کے بہاؤ میں کمی واقع ہونا اور گوشت اور تیل حاصل کرنے کے لیے ڈولفن کا شکار اس کی نسل کو ختم کرنے کا باعث بن رہا ہے۔

مذکورہ سروے میں متعلقہ اداروں کے ساتھ مختلف تعلیمی اداروں کے طلبا کو بھی شامل کیا گیا تاکہ ان میں اس نایاب نسل کے تحفط اور اہمیت کے متعلق شعور پیدا کیا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں